جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو بھی وہی جواب ملے گا: ایران Leave a comment

  • پاسداران انقلاب کی اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سے خبردار کرتے ہوئے اسرائیلی جوہری تنصیبات پر سخت ردعمل کی دھمکی۔
  • ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر حالیہ حملے میں اس نے پرانے ہتھیار اور کم سے کم طاقت کا استعمال کیا تھا۔
  • ایران۔ دوبارہ حملے پر مجبور ہونا پڑا تو پوری قوت سے کارروائی کی جائے گی۔
  • ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے کچھ دور ہے جبکہ اسرائیل کے متعلق عمومی تاثر ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ایک سینئر جنرل نے جمعرات کو دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ بھی اسرائیل کی نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ بنائیں گے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیل پر اپنے حالیہ غیر معمولی حملے کے ردعمل کی توقع کر رہا ہے۔

اسرائیل کے فوجی سربراہ نے حال ہی میں ایرانی فضائی حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایران نے اس حملے میں 300 سے زیادہ ڈرونز اور میزائل استعمال کیے تھے، جن میں سے زیادہ تر کو اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور اردن نے اسرائیل پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا تھا۔

اسرائیلی جوہری تنصیبات پر جوابی وار پوری قوت سے ہو گا

ایرانی جنرل کا کہنا ہے کہ مقررہ اہداف کی مکمل تباہی کے لیے ہمارے ہاتھ طاقت ور میزائلوں کے بٹن پر ہیں۔

اسرائیل پر حملے کی قیادت کرنے والے پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملے میں صرف پرانے ہتھیار اور کم سے کم طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اور کم طاقت کے استعمال سے ہم نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پر قابو پایا۔

اسرائیل تحمل سے کام لے

امریکہ سمیت دنیا کے زیادہ تر رہنما اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لے کیونکہ جوابی کارروائی کی صورت میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔کیونکہ اسرائیل حماس جنگ میں اب لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغی بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ان دونوں عسکری تنظیموں کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل پر فضائی حملہ، یکم اپریل کو دمشق میں اپنے سفارت خانے پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا تھا جس میں دو اعلیٰ فوجی عہدے داروں سمیت پاسداران انقلاب کے سات ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیل کا جوابی حملے کا عزم، لیکن اہداف نہیں بتائے

اسرائیل نے جواب دینے کا عزم تو ظاہر کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اور کہاں جوابی کارروائی کرے گا۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے جوہری تحفظ اور سلامتی کے سربراہ حق طالب نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کا یقینی طور پر جواب دیا جائے گا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے حق طالب کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر اسرائیل ہمارے جوہری مراکز اور تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی یقیناً ہمارے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس میں اسرائیلی جوہری تنصیبات کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جائے گا۔

جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو جوہری پالیسی پر نظرثانی کریں گے

حق طالب کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کا خطرہ، تہران کو اپنی جوہری پالیسیوں اور تحفظات پر نظرثانی اور ان سے انحراف پر مجبور کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

ایران نے ہمیشہ یہ إصرار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔ لیکن جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ماہرین یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران نے جوہری ہتھیار میں استعمال ہونے والے بنیادی عنصر یورینیم کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے اور وہ جلد ہی جوہری بم کی سطح کی افزودہ یورینیم تیار کر سکتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2019 میں کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے لیکن ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اسلام ان کے استعمال سے روکتا ہے۔

ایرانی جوہری تنصیبات اور سائنس دانوں پر حملے ہو چکے ہیں

ایران حالیہ برسوں میں اپنی جوہری تنصیبات پر تخریب کاری کے حملوں اور اپنے جوہری سائنس دانوں کے قتل کا الزام بھی اسرائیل پر لگاتا رہا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام میں نمایاں پیش رفت کو روکنے کے لیے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد ہیں۔ جن میں نرمی کے لیے ایران نے امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدہ کیا تھا جس میں ایران نے یورینیم کی افزودگی کو نمایاں طور پر کم کرنے اور اپنی جوہری تنصیبات کے مسلسل معائنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے نکال کر اپنے ملک کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں دوبارہ سخت کر دیں تھیں۔

ایران کی جوہری تنصیبات جو علم میں ہیں

ایران کی معلوم جوہری تنصیبات نطنز اور فردو میں ہیں جب کہ اس کا واحد جوہری بجلی گھر بو شہر میں قائم ہے۔

حق طالب نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے جوہری مراکز کی شناخت کر لی ہے اور اس کے پاس تمام اہداف کی ضروری معلومات موجود ہیں۔

(اس آرٹیکل کے لیے کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)



Supply hyperlink

Leave a Reply